بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || روزنامہ کیہان کے کالم نویس، محمد ایمانی نے اپنے کالم بعنوان "امریکہ معاشی تباہی کے دہانے پر/ ٹرمپ ہرمز کھولتے کھولتے باب المندب کم بھی گنوا بیٹھا!" میں لکھا: جنگ کے جس ڈومِنو (domino) کا منصوبہ ایران کی سرزمین گہرائیوں کے لئے بنایا گیا تھا، اور جسے دو تین دن میں ایک چھوٹی سی تفریح کی طرح سمیٹ لیا جانا تھا، سات مہینے بعد امریکہ کی سرزمین کی گہرائی میں اگے بڑھ رہا ہے۔
یہ الٹا ڈومِنو اتنی تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے کہ اندازہ ہے کہ کانگریس کے ضمنی انتخابات میں یا اس سے بھی پہلے ٹرمپ حکومت کے خلاف ایک معاشی اور سیاسی برفانی تودے میں بدل جائے گا۔
اٹلانٹک لکھتا ہے: "ٹرمپ ہرمز کو کھولنا چاہتا تھا، مگر دوسرا آبنائے بھی گنوا بیٹھا! حوثیوں نے اب باب المندب کا گلا پکڑ لیا ہے۔ اس شخص کے لئے جس کو امید تھی کہ ایران سے آبنائے ہرمز کا کنٹرول واپس لے لے گا، یمنی حوثیوں کی پیش قدمی ایک بلائے ناگہانی سے کم نہیں ہے۔"
واشنگٹن پوسٹ نے لکھا: "ایک طرف تیل اور پٹرول کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں؛ دوسری طرف توانائی کے راستوں میں جاری خلل مختلف صنعتوں اور سپلائی چینز تک بھی پھیل سکتا ہے اور جنگ کے تباہ کن نتائج ـ تیل کی قیمت اور پینٹاگون کے بجٹ سے بھی زیادہ ـ وسیع ہو سکتے ہیں۔"
امریکی صحافی کرس ہیجز (Chris Hedges)، لکھتا ہے: "جب تک آبنائے ہرمز بند رہے گا، صورتحال خراب سے خراب تر ہوتی جائے گی۔ آج [ایران کے خلاف جنگ کے نتیجے میں] خوراک بھی ایک بڑا مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ یقیناً اگر یہ معاملہ حل نہ ہؤا تو ہم کھائی کے کنارے سے [کھائی میں] گر جائیں گے اور ہمیں معاشی تباہی کا سامنا کرنا پڑے گا۔"
فاکس نیوز کے سروے میں، 63 فیصد رائے دہندگان کا ماننا ہے کہ ٹرمپ حکومت نے امریکہ کی معیشت کی صورتحال کو پہلے سے کہیں زیادہ خراب کر دی ہے۔
سی این این کہ کہنا ہے: "ٹرمپ بدستور، بدترین انداز سے، مہنگائی کے میدان میں ریکارڈ توڑ رہا ہے۔ مہنگائی کے بارے میں اس کی خالص مقبولیت کا تناسب منفی 61 (61-) پوائنٹ ہے؛ امریکی تاریخ میں کسی بھی صدر کے لئے بدترین عدد۔"
واشنگٹن پوسٹ نے لکھا: "ٹرمپ نے نجی حلقوں میں مان لیا ہے کہ اس کے فیصلے، جن میں ایران کے ساتھ جنگ بھی شامل ہے، ضمنی انتخابات سے پہلے ریپبلکنز کو مشکل صورتحال سے دوچار کرنے میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔"
برطانوی اخبار گارڈین نے لکھا: "ایران کے ساتھ جنگ کے بارے میں ٹرمپ کے تمام موقف، بے بسی سے جنم والی باتیں ہیں۔ اس نے سینکڑوں ارب ڈالر کے بے کار اخراجات کا متحمل ہو کر امریکہ کو ایک تباہ کن بھنور میں پھنسا دیا ہے اور اس مفلوج کرنے والے نقصان کی تلافی ناممکن ہے۔"
ٹرمپ مقبولیت کے کھلے گراؤ (Free fall) اور عوامی اکثریت کے غیظ و غضب سے دوچار ہے، اور بے بسی کی بنا پر محض وعدے دے رہا ہے۔ یہ ایسے جوئے میں بے بسی کی واضح نشانیاں ہیں جس کو آنے والے نسلیں ایک تاریخی المیہ قرار دیں گی۔"
امریکی ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹس کے رہنما، حکیم جیفریس کا کہنا ہے: "مشرق وسطیٰ میں جو کچھ ہو رہا ہے، ـ جس میں پٹرول کی قیمت کا سر چکرا دینے والا اضافہ بھی شامل ہے، ـ اس کے نتیجے میں ایران مضبوط اور امریکہ کمزور ہو گیا ہے۔"
سی این بی سی کا کہنا ہے: "ڈیزل کی بے مثال قیمت کے اثرات چند ہی ہفتوں میں پوری امریکی معیشت تک سرایت کر جائیں گے۔"
نکتہ:
تو دیکھ لیجئے امریکی ریاست ـ جو طاقت کے ایام میں کسی کی مشکل حل نہ کر سکی تھی ـ کس صورت حال سے دوچار ہے، اور ایک گرتی ہوئی ریاست اس قابل ہے کہ کوئی "لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ (ص)" کہنے والی قوم، پھر بھی اسے اپنا معبود قرار دے، العیاذ باللہ؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بقلم: محمد ایمان، کالم نویس روزنامہ کیہان
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110

آپ کا تبصرہ